اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں متحدہ مجلس علماء کا ایک غیرمعمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں جموں و کشمیر کے تمام خطوں سے وابستہ سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ یہ اجلاس جموں کشمیر کے گرمائی دارالخلافہ سرینگر میں واقع تاریخی میر واعظ منزل میں منعقد ہوا۔اجلاس میں علماء کرام نے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے تمام مسلمان اقوام سے اپیل کی وہ علاقائی اور ملکی مفاد سے اوپر اٹھ کر دین اسلام کی سربلندی اور مسلم امہ میں اتحاد واتفاق کو قائم کرنے اور موجودہ انتشاری کیفیت کو ختم کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔
کشمیر سے ہمارے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق سرینگر میں منعقدہ اس اجلاس کی صدارات امیر مجلس میر واعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کی اور اس اجلاس میں جموں وکشمیر کے تمام خطوں سے وابستہ سرکردہ علمائے کرام ،مقتدردینی تنظیموں کے سربراہوں،خطیبوں اور جید دانشوروں نے شرکت کی ۔اجلاس میں عالم اسلام کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں سیاسی، سماجی، معاشرتی اور مسلکی سطح پر رونما ہو رہے واقعات پر گفتگو کی گئی اور شرکائے اجلاس نے بڑے مدلل اور مثبت انداز میں اپنے خیالات اور آراء پیش کیں۔اجلاس میں عالم اسلام میں رونما ہو رہے پریشان کن حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے ہر دردمند اور ذی حس مسلمان کیلئے باعث فکر و تشویش قرار دیا گیا۔ اجلاس میں شریک علماء کرام اور اسلامی اسکالروں کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی مثال ایک جسد واحد کی ہے اور مسلمانوں کی اجتماعیت اور وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی عالمی سطح پر اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے جو کوششیں کی جارہی ہیں انکا توڑ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان تمام مسلکی اور فروعی اختلافات کو پس پشت ڈال کر وحدت کلمہ کی بنیاد پر اتحاد بین المسلمین کا مظاہرہ کریں۔ اپنے صدارتی خطاب میں امیر مجلس میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کہا کہ کشمیر میں ایک منصوبہ بند طریقے سے کشمیری مسلمانوں کے اسلامی تشخص کو کمزور کرنے کیلئے مختلف ناموں سے مختلف سطحوں پر مسلمان دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اتحاد اسلامی کو پارہ پارہ کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہے۔ انہوں نے بھارت کی فرقہ پرست تنظیموں آر ایس ایس، شیوسینا اور بجرنگ دل کی جانب ہندوتوا کے ایجنڈے کو بڑھاوا دینے اور آئے دن مسلمانوں کیخلاف ہرزہ سرائی اور مسلمانوں کیخلاف غیر اخلاقی اور غیر انسانی اقدامات پر مبنی بیانات کو حد درجہ شرانگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فرقہ پرست قوتیں جہاں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے درپے آزار ہیں وہیں یہ تنظیمیں کشمیر میں بھی ایجنسیوں کے ذریعے جموں وکشمیر کی جغرافیائی ،تہذیبی اور تمدنی شناخت کو ختم کرنے کا ہر ممکن حربہ آزما رہی ہیں۔ انہوں نے مزید تمام مسلکوں کے علماء دانشوروں اور رہنماووں سے گزارش کی ہے کہ وہ اتحاد بین المسلمین کو قائم کرنے اور اسے آگے بڑھانے میں اپنا تعاون پیش کریں۔
اجلاس میں جن دینی تنظیموں کے سربراہوں یا نمائندوں اور علماء کرام نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میں انجمن شرعی شیعان کے جناب آغا سید حسن الموسوی الصفوی ، اتحاد المسلمین کے سربراہ جناب مولانا مولوی محمد عباس انصاری، تحریک امامیہ کشمیر کے جناب مولانا غلام علی گلزار، کاروان اسلامی کے جناب مولانا غلام رسول حامی، مطہری فکری ثقافتی مرکز کے جناب شیخ غلام حسین متو، پیروان ولایت جموں و کشمیر کے جناب زاہد حسین زاہدانی،، اہلبیت فاونڈیشن کے جناب شیخ غلام رسول نوری،جماعت اسلامی کے جناب ایڈوکیٹ زاہد علی،، انجمن حمایت الاسلام کے جناب خورشید احمد قانونگو انجمن مظہرالحق کے جناب مولانا لطیف احمد بخارینمائندہ مفتی اعظم مفتی بشیر الدین ، مفتی ضیا الحق ناظمی اسلام آباد، دارلعلوم بلالیہ، انجمن تبلیغ الاسلام ، دارالعلوم قاسمیہ ، دارالعلوم داوودیہ کے مولانا محمد یونس ، مسلم پرسنل لا بورڑکے مولوی محمد یاسین کرمانی،، انورشاہ کشمیری میموریل ٹرسٹ ، اسلامک اسٹڈی سرکل کے غلام حسن میر، محمدیہ یتیم ٹرسٹ کے پیر عبدالحمید ، دارالعلوم اصحاب صفہ کے مولوی معراج الدین، سراج العلوم ، انجمن نصرت الاسلام کے جناب مفتی غلام رسول سامون ، جناب بشیر احمد کنٹھ، انجمن حمایت الاسلام کے مولانا شوکت حسین کینگ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔۔
...........
242